About Us

صفا بیت المال اور اس کے شعبہ جات کامختصر تعارف 

صفابیت المال ایجوکیشنل ویلفیر اینڈ چیرٹیبل ٹرسٹ ایک ایسا رفاہی ‘ فلاحی اور تعلیمی ادارہ ہے جو علماءِ کرام کی راست نگرانی میں ملت کے مستحق‘ پسماندہ اور محروم طبقات تک پہنچنے‘ ان کے احوال کی خبر گیری کرنے اور حالات کے تقاضہ کے مطابق ان کی امداد کرنے ‘ ان میں خود اعتمادی اور خود مختاری کی صلاحیتیں پیدا کرنے اور ان کو اجاگر کرنے‘ نیز انسانوں کے دلوں میں یکسانیت‘ پیار اور محبت کی شمع روشن کرنے کی حتی المقدور کوششوں میں مصروف ہے۔ 

سن قیام : سن ۲۰۰۶ ؁ء مطابق ۱۴۲۷ ؁ھ 

عہدیداران
صدر : مولانا غیاث احمد رشادی

جنرل سکریٹری : مولانا محمد فصیح الدین ندوی

سکریٹری : مولانا محمد مصدق القاسمی 

خازن : مولانا محمد وسیم الحق ندوی

نائب صدر : مفتی عبدالمہیمن اظہر القاسمی

:وجہ قیام اور مقاصد

انسانیت ‘ محبت ‘ ایثار اور بلالحاظِ مذہب و ملت انسانوں کی خدمت کے سلسلہ میں دینِ اسلام کی جو تعلیمات ہیں اور نبی رحمت ﷺ نے اپنے عمل کے ذریعہ یاان صفات کے حامل مدنی معاشرہ کی تشکیل کے ذریعہ جو ناقابلِ فراموش تعلیمات انسانیت کو دی ہیں ان کو اپنانے اورعملاًاسے عام کرنے کی جو کوششیں صحابۂ کرام اور ہر دور کے علماءِ عظام نے کی ہیں اُسے موجودہ حالات کے تناظر میں علماءِ کرام کی زیرِ نگرانی انجام دینا، تاکہ انسانیت کی فلاح اور بہبود کاکام آگے بڑھایاجاسکے اور یہ خدمت ان لوگوں کے کیلئے ایک عملی جواب ثابت ہو جو جان بوجھ کر یا کم علمی کی بناء پر اسلام اور اسلامی تعلیمات کو دہشت گردی یا ان کی ہمت افزائی سے کسی قدر مربوط کرنے کی سعی مسلسل کررہے ہیں۔

محسوس کیاگیا کہ اس تیز رفتار ترقی کے زمانے میں مالدار اور غریب کے درمیان فاصلے بڑھتے جارہے ہیں اور صاحبِ استطاعت احباب حقیقی مستحق افراد تک پہنچنے کے بجائے ان تک پہنچنے والے چند گداگروں ( جن میں سے اکثر غیر مستحق ہوتے ہیں) کو دیکھ کر قوم کی سطحِ غربت کا اندازہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جو کہ حقیقی اور زمینی سطح کی صورتِ حال سے یکسر مختلف ہوتی ہے جس کے نتیجے میں بہت سے مستحق احباب یا تو اپنی غربت کی بناء پر یا صاحبِ ثروت اصحاب تک پہنچنے کے وسائل نہ ہونے کی وجہ سے بچوں کی تعلیمی اور ماتحتین کی معاشی کفالت اور علاج و معالجہ میں نا امیدی اور مایوسی کی جانب بڑھتے نظر آتے ہیں اور بسا اوقات مناسب وسائل کے نہ ہونے کی بناء پر جان سے تک ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ چنانچہ صفا بیت المال کا مقصد یہ ہے کہ سلم علاقوں اور مستحق افراد کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے اورحقیقی مستحق افراد کے رجوع ہونے تک انتظار کرنے کے بجائے ازخود ان احباب تک پہنچ کر ان کے مسائل کو جاننے اور صاحبِ استطاعت افراد کے تعاون سے ان مسائل کو حل کرنے کیلئے مختلف وسائل مہیا کرنے کی کوشش کی جائے تاکہ پسماندہ طبقات ترقیوں کی راہ پر گامزن رہ سکیں۔

شعبہ ہائے صفا بیت المال : 

شعبہ سروے : ابتداء ہی سے صفا بیت المال نے سرکاری دواخانوں ‘سلم علاقوں اور مستحق افراد تک پہنچ کر حقیقی صورتِ حال سے واقفیت کو بہت اہمیت دی اور اس مقصد کی تکمیل میں وقت اور حالات کے ساتھ اس کام کے طریقہ ء کار کے سلسلہ میں دیگر تنظیموں کے بہت سے تجربات کو بھی نظام میں شامل کیا ۔ الحمدللہ سروے کے اسی نظام کی بناء پر مستحق افرادکو درپیش مسائل سے کافی حد تک واقفیت ادارہ نے حاصل کی اور اس سے ملنے والی رپورٹ کی بنیاد پر حسبِ ضرورت مختلف شعبہ جات کا قیام عمل میں لایاگیا۔

اس شعبہ کے تحت اولاً ایک ایک علاقہ کو بنیاد بنا کر اس کی مکمل رپورٹ تیار کی جاتی ہے ۔ صورتحال پر گہری نظر ڈالی جاتی ہے کہ علاقہ میں مساجد کہاں کہاں ہے ،تعلیمی ادارہ کون کون سے ہیں،طبی مراکز کی کیا صورت حال ہے، اس کے پولیس اسٹیشن، منڈل، اس میں قائم ای سیوا اور می سیوا سنٹر کی تفصیلات ، اس میں سکونت پذیر افراد کی مجموعی صورتِ حال نیز اس علاقہ کے کچھ بنیادی اور اہم مسائل پر رپورٹ تیار کی جاتی ہے تاکہ اس علاقہ میں کام کرنے کیلئے انکی ضروریات کو جان کر اس کی تکمیل کیلئے مرتب انداز میں کوشش کی جاسکے۔ 

علاقہ کے سروے کے علاوہ اپنی خدمات کو حقیقی مستحق افراد تک پہنچانے اور پسماندہ طبقات کو حکومتی اور غیر حکومتی ذرائع سے پروان چڑھانے کیلئے افراد اور خاندانوں کے انفرادی سروے یعنی ان کے ذاتی حالات سے مکمل واقفیت اور اسکی تحقیق کے مرحلہ کو حسبِ ذیل دو مختلف طریقوں سے جاری رکھا گیا ہے۔
مکمل سروے :اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ حیدرآباد کے سلم علاقوں میں سے کسی علاقہ کو ذمہ دارن منتخب کر تے ہیں، پھر اس علاقوں کی معززاور بااثر شخصیات سے ملاقات اور میٹنگ کے ذریعہ اس کی اہمیت سے انہیں باخبر کیا جاتا ہے ، پھر اس علاقہ کو گوگل میاپ کے ذریعہ مختلف زون میں تقسیم کیا جاتا ہے، پھراس سلم علاقہ کے ہر گھر میں صفا کے نمائندے ازخود پہنچ کر اس گھر میں رہنے والے افراد کی مکمل تفصیلات جیسے ان کے نام ، عمر،مذہب ،تعلیمی کیفیت ، معاشی حالت ، روزگار کی تفصیلات ، طبی کیفیت ،شناختی دستاویزات یعنی آدھار کارڈ وغیرہ کی علاوہ ان کے لازمی اخراجات اور ان کو درپیش مسائل کو قلم بند کرتے ہیں، سروے کے طریقہ کار کی بناء پر بہت سے ایسے خاندانوں کے حالات ادارہ کے سامنے آتے ہیں جو انتھائی کسم پرسی کے باوجود کسی کے سامنے دستِ سوال دراز نہیں کرتے اور عزتِ نفس کے وجہ سے حالات کا مقابلہ کررہیں ہوتے ہیں۔

عام سروے : اس میں بھی افرادِ خاندان کی تفصیلات مکمل سروے کی طرح ہی حاصل کی جاتی ہے ؛البتہ اس میں علاقہ کا مکمل استیعاب نہیں ہوتا ؛بلکہ مستحقین کی جانب درخواست کے موصول ہونے یا صفا بیت المال کے مقامی نمائندہ کی جانب سے کسی مستحق کی نشاندہی کرنے پر اس گھرانہ کی مکمل تفصیلات حاصل کی جاتی ہیں۔ 

گھر گھر پہنچ کر سلم علاقوں میں رہنے والے افراد کی تفصیلات کے اندارج کے بعد ہر خاندان کے معاشی اور طبی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ادارہ کی جانب سے بنائے گئے اصول کے مطابق انہیں تین زمروں میں تقسیم کیا جاتاہے ، اس میں خصوصیت کے ساتھ ان کی آمدنی کوملحوظ رکھا جاتاہے کہ اس گھر میں موجود افراد کی کل آمدنی میں سے لازمی اخرجات جیسے گھر کا کرایہ ، بچوں کے تعلیمی اخراجات اور گھر میں موجود مستقل بیماریوں کا شکار افراد کے طبی اخراجات کو نکالنے کے بعدبقیہ آمدنی کو اگر افرادِ خاندان پر تقسیم کیاجائے تو اگر فی فرد 1500یا اس سے کم آمدنی ہورہی ہو انہیں زمرہ ’’انتھائی غریب ‘‘ میں شمار کیا جاتا اورانہیں ادارہ کی جانب سے سفید رنگ کا استحقاق کارڈ جاری کیا جاتا ہے اوراگر ان کی کل آمدنی( لازمی اخرجات منہا کرنے کے بعد) فی فرد1500 تا 2000 روپئے ہوتی ہے تو انہیں زمرہ ’’غریب ‘‘ میں شمار کیا جاتا ہے اور انہیں ادارہ کی جانب سے پیلے رنگ کا استحقاق کارڈ جاری کیا جاتا ہے ، اور اگر مذکورہ طریقہ کے مطابق آمدنی فی فرد 2000سے زائد ہو تو انہیں زمرہ’’ متوسط ‘‘ میں شمار کرتے ہوئے انہیں گلابی رنگ کا کارڈ جاری کا جاتا ہے اور صفا بیت المال کی جانب سے دی جانے والی تمام مرعات اسی استحقاق کارڈ کی بنیاد پر جاری کی جاتی ہے ، جن میں خصوصیت کے ساتھ موبائیل کلینک اور صفا ہیلت کیر سنٹر کے ذریعہ تشخیص اور مفت ادویات کی فراہمی، صفا ڈائیگناسٹک کے ذریعہ مفت لیاب ٹیسٹ، رمضان راشن ، وظائف بیوگان ومعذورین، یتیم بچوں کی تعلیمی کفالت اور ایک ہی خاندان میں دو سے زائد معذورین کی کفالت مائیکرو فینانس کے ذریعہ بلاسودی قرض کی اجرائی وغیرہ شامل ہے۔

سروے کے ذریعہ تفصیلات حاصل کرنے ایک بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے ادارہ کے سامنے علاقہ کی مکمل صورتِ حال واضح ہوتی ہے کہ اس علاقہ میں کتنی بیوائیں ہیں ،کتنی مطلقہ عورتیں ہیں ،کتنے یتیم بچے ہیں ،تعلیم کے بارے میں اندازہ ہوتا ہے کہ والدین یاسرپرستوں کی تعلیمی کیفیت کیا ہے اور بچوں کا تعلیمی گراف کیا ہے ، اگر وہ تعلیم حاصل کررہیں تو اس تفصیل کیا ہیں، کتنے ایسے بچے ہیں جو پڑھنے کی عمر ہیں اور نہیں پڑ ھ رہے ہیں اور اس کی وجہ کیا ھے، کتنے ایسے لوگ ہیں جو مناسب روزگار سے محروم ہیں ،آدھار کارڈ ، راشن کارڈ ، ووٹر آئی ڈی کارڈ اور بنک اکاؤنٹ کن کے پاس ہے اور کن کے پاس نہیں وغیرہ .......

اس طرح کی مختلف رپورٹس ادارہ کی جانب سے تیار کی جاتی ہے اور پھر انہیں درپیش مسائل کے حل کے لئے ادارہ کے بجٹ کے لحاظ سے جوممکنہ صورتیں ہو سکتی ہیں انہیں اپنانے کی کو شش کی جاتی ہے ، اس کے علاوہ ان افراد کو سرکاری اسکیمات کے سلسلہ میں ان کو مناسب رہنمائی فراہم کی جاتی ہے نیز دیگر رفاہی وفلاحی نتظیمیں بھی اگران کی فلاح اور بہبود کے سلسلہ میں کوئی لائحہ ء عمل رکھتی ہے تو ادارہ اپنے اصول کے مطابق ان کے اشتراک سے مختلف کام انجام دینے کی کوشش کرتاہے۔

اپیل :صفا بیت المال آپ سے اپیل کرتا ہے کہ آپ ان معذور خاندانوں ،بیوگان یا یتیم بچوں کی کفالت ،تعلیم کاشوق رکھنے والے طلباء کی تعلیمی سپانسرشب،روزگار سے محروم افراد کے لئے روزگار کی فراہمی ،میکروفینانس کے ذریعہ بلاسودی قرض کی اجرائی ، علاج ومعالجہ کی استطاعت سے محروم مختلف بیماروں کا شکار افراد کے علاج یا اس طرح کے دیگر امور کے لئے ادارہ سے تفصیلات حاصل کریں، سینکڑوں افراد کی رپورٹ ادارہ کے پاس موجود ہے جنہیں پڑھ کرآپ ان کے حالات اور استحقاق کا اندازہ کرسکتے ہے اور ان کے تعاون یا کفالت کی ذمہ داری قبول کرسکتے ہیں،اگرآپ ان کی ذمہ داری قبول کریں تو ادارہ اس بات کا بھر پور خیال رکھتا ہے کہ آپ نے جس فرد یاجس خاندان کا تعاون یا کفالت کی ذمہ داری لی ہے اور اس مد میں جو بھی رقم آپ نے ادارہ کے حوالہ کی، ادارہ اس رقم کو اسی خاندان یا اسی فرد کے استعمال کرے گا۔

A Brief  Introduction of 

Safa Baitul Maal EducationalSafa Baitul Maal and its Departments

Welfare and Charitable Trust is a charitable, social and educational institution that, in the direct supervision of scholars, is making all possible efforts to reach the disadvantaged and marginalised sections, know their circumstances, assist them according to their circumstances, generate and highlight self-esteem and self-reliance in them and kindle the flame of uniformity, love and affection in the masses.
Year of Establishment : 2006 / 1427 H
Officials:
President : Moulana Gayas Ahmed Rashadi
General Secretary : Moulana Mohammad Fasihuddin Nadvi
Secretary : Moulana Mohammad Musaddiq-ul-Qasmi
Treasurer : Moulana Mohammad Waseem-ul-Haq Nadvi
Vice President : Mufti Abdul Mohaimin Azhar-ul-Qasmi
Need for Establishment and Objectives
(1) The teachings of Islam that are related to humanity, love, sacrifice and service regardless of religion and the cherished teachings that the Blessed Prophet (SAW) gave to the entire humanity through his deeds and through the Madani Society created based on these attributes and the efforts of Companions and great scholars of every period to practically implement these teachings- execute these in the context of the present circumstances under the supervision of scholars, so that the progress and welfare of humanity could be ascertained and these services could develop into a practical response to those who deliberately or out of ignorance, are constantly engaged in associating Islam and Islamic teachings with terrorism or its encouragement.
(2) A growing disconnect between the rich and the poor has been observed in this era of rapid development; the well-off people, instead of reaching the actual deserving people are trying to evaluate the level of poverty of the community through a few fraudsters (most of whom are not deserving) who approach them, whose circumstances are dissimilar to actual and ground realities, due to which most of the deserving people, due to their poverty or due to non-availability of the means to reach the well-off, are found to be drifting towards despair and frustration for the education of their children and economic support and treatment and care of their dependents and at times, due to lack of adequate resources, lose their lives. Hence, it is the objective of Safa Baitul Maal to assess in depth the slums and deserving people and instead of waiting for the deserving to approach, reach them in person and know their problems and with assistance from well-off people, strive to provide various resources to solve their issues so that the marginalised sections move forward on the track of development.